حضرت امام مہدی (علیہ السلام) – کائینات کے نجات دہندہ

Reading Time: 2 minutes

۱۵ شعبان المعظم، حضرت امام مہدی(علیہ السلام) کا روزولادت با سعادت ہے۔ امت مسلمہ کو یہ عید سعید مبارک ہو۔ آئیے اس پر مسرت موقعہ پر امام مہدی(علیہ السلام) سے متعلق چند حدیثوں پر طائرانہ نظر ڈالنے کی سعادت حاصل کریں:

  • امام مہدی (علیہ السلام)اولاد حضرت فاطمہ زہراء (علیہا السلام)میں سے ہیں: ام المومنین حضرت ام سلمہ (علیہا السلام) نے حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے حوالہ سے یہ نقل کیا ہے کہ ’’مہدی (علیہ السلام) حق ہیں اور وہ اولاد فاطمہ (علیہا السلام) سے ہوں گے۔‘‘ [سنن ابی داؤد، کتاب المہدی، ح ۸۲۸۴]
  • امام مہدی(علیہ السلام) پر امت مسلمہ کا اتفاق: ابن خلدون کا بیان ہے کہ ہر زمانہ کے مسلمانوں اس بات کو قبول کیا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک فرد کا قیام ہوگاجو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی آل میں سےہوگا۔ وہ دین  کی مضبوطی کا سطون ہوگا۔ وہ زمین پر عدل و انصاف قائم کریگا اور تمام مسلمان اس کا احترام کریں گے۔ وہ تمام اسلامی ممالک پر تسلط حاصل کریگا اور اس کا نام ’مہدی‘ ہوگا۔ [مقدمہ ابن خلدون، ص ۳۶۷]
  • قیامیت سے پہلے امام مہدی (علیہ السلام) کاظہور ہوگا: عبد اللہ بن مسعود نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سےحدیث نقل کی ہے کہ’’روز قیامت اس وقت تک نہیں آئےگا جب تک میری عترت سے ایک فرد ظاہر نہ ہو جس کا نام میرا نام ہوگا۔‘‘ [سنن ترمذی، ج ۴، حصہ ۳۴، باب ۵۲، ص ۵۰۵، ح ۲۲۳۱]

امام مہدی(علیہ السلام)   کے ظہور کا انکارکرنا کفر ہے: جابر بن عبد اللہ انصاری کا بیان ہے کہ حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)  نےارشاد فرمایا: ’’جس نے قیام مہدی(علیہ السلام)  کا انکار کیا اس نے ان تمام باتوں کا انکار کیا ہے جو محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر نازل ہوئیں۔‘‘ [فرائد السمطین از حموینی، ج ۲، ص ۳۳۴، ح ۵۸۵]

Leave a Reply