امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کی خلافت بلا فصل – ذوالعشیرہ سے غدیر تک

Reading Time: 4 minutes

يَا أَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِيْنَ

’’اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے (کسی) پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے۔‘‘ [سورۂ مائدہ (۵): آیت ۶۷]

تمام مفسرین قرآن اس بات پر متفق ہیں کہ مندرجہ بالا آیت کے نزول کے بعدغدیر خم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی علیہ السلام مولا ہیں‘‘۔ یہ قرآن مجید کی واحد آیہ کریمہ ہے جس میں خداوندعالم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ پیغام نہیں پہنچایا تو کار رسالت انجام ہی نہیں دیا۔ اس آیہ کریمہ کے لب و لہجہ قرآن مجید میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں تھا جب امام علی علیہ السلام کی امامت و خلافت بلا فصل کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ آئیے ہم ان میں سے کچھ مواقع پر طائرانہ نظر ڈالیں  اور وہ بھی اہل تسنن علماء کی کتابوں سے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صدر اسلام سے ہی اپنی جانشینی کا اعلان فرمایا تھا:

  1. دعوت ذوالعشیرہ – جب پہلی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو دعوت دی اور اپنے رسالت کے مشن کی ابتداء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’کون ہے جو اس امر میں میرا وزیر بنےگا؟‘‘ تو صرف امام علی علیہ السلام نے آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت کا وعدہ کیا۔ پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ ھٰذَا اَخِیْ وَ وَصِیِّیْ وَ خَلِیْفَتِیْ فِیْکُمْ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَ اَطِیْعُوْا ’’بیشک یہ میرا بھائی، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا خلیفہ ہے۔ پس اس کی بات غور سے سنو اور اس کی اطاعت کرو۔‘‘ [تاریخ طبری، ج ۲، ص۳۲۱]
  2. معراج – ابو ہریرہ کی روایت کے مطابق خداوند عالم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو معراج پر یہ حکم دیا:’’آپ لوگوں تک یہ پیغام پہنچائیں کہ علی علیہ السلام ہدایت کے پرچم ہیں اور جو بھی مجھ پر ایمان لاتا ہے اس کے یہ محبوب ہیں۔‘‘ [شواہد التنزیل، ج۱، ص ۲۴۹، ح ۲۴۴]
  3. جنگ بدر –  رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عَلم بر دار حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام تھے۔ [تاریخ طبری، ج۲، ص ۴۳۱]
  4. جنگ احد –  رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امام علی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا: اِنَّہٗ مِنِّی وَ اَنَا مِنْہُ ’’وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔‘‘ اور پھر ندائے آسمانی آئی کہ لَا سَیْفَ اِلَّا ذُوْالْفِقَارِ وَ لَا فَتٰی اِلَّا عَلِیٌّ [تاریخ طبری، ج ۲، ص ۵۱۴؛ کنزالعمال، ج ۵، ص ۷۲۳، ح ۱۴۲۴۲؛ البدایہ و النہایہ، ج ۶، ص ۵ پر ابن کثیر کا بیان ہےکہ تمام اہل سنن  نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔]
  5. جنگ خیبر – جب مسلمانوں کی فوج کا کوئی بھی فرد خیبر فتح کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’کل میں عَلم یقیناً اس شخص کو دوں گا جو مرد ہوگا، جس سے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم محبت کرتے ہیں اور وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کرتا ہے۔‘‘ پس دوسرےدن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےعَلم حضرت علی علیہ السلام کے سپرد کیا اور خیبر انہیں کے ذریعہ فتح ہوا۔ [صحیح بخاری؍۶۴؍۲۴۹ ]
  6. حدیث منزلت – رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مشہور و معروف حدیث جو انہوں نے غزوۂ تبوک کے موقعہ پر حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام سےارشاد فرمائی : ’’تمہاری منزلت میرے نزدیک ویسی ہی ہے جیسی ہارون علیہ السلام کی موسٰی علیہ السلام سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘ [صحیح بخاری؍۶۸؍۴۳۸]
  7. مباہلہ – نصرانیوں کے خلاف مباہلہ کے سلسلہ میں سورۂ آل عمران(۳) کی آیت ۶۱ میں نفس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صرف اور صرف حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام  کو ہی بتایا گیا ہے۔ [جامع الترمذی؍۴۷؍۳۲۶۹]
  8. حدیث طیر  – امام علی علیہ السلام ہی اللہ کے محبوبترین بندے تھے جنہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ آسمانی پرندہ کو تناول فرمایا۔ [صحیح ترمذی، ج۱۳، ص۱۷۰]
  9. تبلیغ سورۂ برائت – سورۂ برائت کی تبلیغ کے لئے حکم پروردگار تھا کہ  أَنْ يَا مُحَمَّدُ ، لَا يَبْلُغُ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ ’’اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! اس کام کو یا تو آپ خود انجام دیں یا آپ میں سے کوئی انجام دے۔‘‘ پس اس کام کے لئے علی علیہ السلام کا انتخاب کیاگیا۔ [المستدرک علی الصحیحین للحاکم النیشاپوری، ج ۳، ص ۵۳؛ مسند احمد بن حنبل، ج ۱، ص ۱۸۳]
  10. غدیر خم – حجۃ الوداع کے موقع پر میدان غدیر خم میں حکم پروردگار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے طویل خطبہ کے بعد اعلان کیا أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ’’کیا میں مومنین پر ان سے زیادہ حق تصرف نہیں رکھتا‘‘ اِنَّ اللہَ مَوْلَایَ وَ اَنَا وَلِیُّ کُلِّ مُوْمِنٍ ’’بیشک اللہ میرا مولا ہے اور میں ہر مومن کا مولا ہوں‘‘ اور پھر حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کر کے یہ ارشاد فرمایا مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَھٰذَا عَلِیٌّ مَوْلَاہُ ’’جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی علیہ السلام مولا ہیں۔‘‘ [سنن ابن ماجہ؍۱؍۱۲۱؛ فضائل الصحابہ نسائی، ص ۱۵]

یہ تمام دلیلیں اسی حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ امامت و خلافت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام صرف واقعہ غدیر پر منحصر نہیں ہے بلکہ یہ ولایت و امامت و خلافت علی علیہ السلام  دین اسلام کا وہ عظیم سطون ہے جس کی دنیا میں ذوالعشیرہ ابتداء ہے اور انتہاء غدیر خم۔

تمام اہل اسلام کو عید سعید، عید اکبر، عید غدیر تہہ دل سے مبارک ہو!

Leave a Reply