ولادت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیهما السلام (١٣ رجب سنه ١٤٤١ہ)

Reading Time: 4 minutes

ڈونلوڈ پی ڈی ایف

مولائے کائنات، مولود کعبہ، وصی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، امیر المومنین حضرت امام علی بن ابی طالب علیہما السلام کایوم ولادت مبارک ہو

۱۳؍ رجب ۳۰؍ عام الفیل، اُس عظیم ذات مقدس کی اس دنیا میں آمد ہوئی جس کی محبت ایمان کا معیار ہے اور جس سے بغض و عداوت نفاق کی علامت ہے۔ کسی قلم میں اتنی قوت و طاقت نہیں کہ اس شخصیت کی مدح سرائی کا حق ادا کر سکے۔ جو تمام اوصاف سے بلند ہے، خدائی صفات کا حامل ہے،جس کی قدر و منزلت و عظمت و بزرگی تک افکار و خیالات کی رسائی نہیں۔ فصاحت و بلاغت جس کی دہلیز پر دم توڑتے ہوئے نظر آتےہیں۔ جس کی ولادت بھی معجزہ، زندگی بھی معجزہ اور شہادت بھی معجزہ ہے یا یوں کہا جائے کہ جو تمام معجزات کامظہر و سرچشمہ ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ ساقیٴ کوثر، فاتح خندق و خیبر، مشکل کشا، مصدر ہل اتی، اسد اللہ الغالب، غالب علی کل غالب، امیر المومنین امام علی بن ابی طالب علیہما السلام ہیں۔ اگرچہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد خداوند عالم کی سب سے افضل مخلوق علی بن ابی طالب علیہما السلام کی ذات گرامی ہے لیکن خدا کے گھر خانہ کعبہ میں آپ کی ولادت با سعادت کےسلسلہ میں تمام مسلمان متفق علیہ ہیں کہ اس فضیلت میں کوئی بھی امام علی علیہ السلام کا شریک نہیں ہے۔مشہور اہل تسنن عالم حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب ’المستدرک علی الصحیحین‘، ج ۵، ص ۲۰۶ پر یہ لکھا ہے:

تَوَاتَرَتِ الأَخْبَارُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَسَدٍ وَلَدَتْ أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلِيَّ بْنَ أَبِيْ طَالِبٍ كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهٗ فِيْ جَوْفِ الْكَعْبَةِ

’’ متواتر حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضرت فاطمہ بنت اسد نے امیر المومنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو داخلِ خانہ کعبہ جنم دیا۔‘‘

آج ۱۳؍ رجب ۱۴۴۱؁ھ، امیر المومنین امام علی بن ابی طالب علیہما السلام کے یوم ولادت کی مناسبت سے ہم تمام عالم اسلام کو تہہ دل سے ہدیہٴ تبریك پیش کرتے ہیں۔ آئیے اس پر مسرت موقعہ پر امام علی علیہ السلام کےفضائل کے سمندر سے بطور تبرک چند قطرے حاصل کریں اور ان کی تھوڑی سی نمی کو محسوس کرنے کی سعادت حاصل کریں۔

  • امام علی علیہ السلام کے فضائل بیشمار ہیں: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’یقیناً خداوندعالم نے میرے بھائی علی علیہ السلام کو اتنی فضیلتیں عطا کی ہیں جن کی کثرت کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔

[المناقب از خوارزمی، ص۱۹]

  • امام علی علیہ السلام جیسے فضائل کسی کے نہیں: احمد بن حنبل کا بیان ہےکہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سے کسی کی شان میں صحیح السند فضائل ویسے مروی نہیں ہیں جیسے علی بن ابی طالب علیہما السلام کی شان میں نقل ہوئے ہیں۔

[شواہد التنزیل از حاکم حسکانی، ج ۱،ص۱۹]

  • امام علی علیہ السلام کے فضائل کا احصاء ناممکن ہے: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تمام درخت قلم بن جائیں، تمام دریا سیاحی بن جائیں، تمام جن حساب کرنے والے اور انسان لکھنے والے ہو جائیں تب بھی وہ علی بن ابی طالب علیہما السلام کے فضائل کو قلم بند نہیں کر سکتے۔

[المناقب از خوارزمی، ص۱۸]

  • قرآن مجید میں امام علی علیہ السلام کا تذکرہ: ابن عباس کا بیان ہےکہ کہیں بھی قرآن مجید میں اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ (جو ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دئے) نہیں آیا ہے مگر یہ کہ اس کے امیر اور شریف علی علیہ السلام ہیں۔

[حلیۃ الاولیاء از حافظ ابو نُعَیم اصفہانی، ج ۱،ص۶۴]

  • خدا نے کبھی امام علی علیہ السلام کی سرزنش نہیں کی: ابن عباس کا بیان ہےکہ اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سے کوئی بھی مرد ایسا نہیں ہے جس کی خداوندعالم نے سرزنش نہ کی ہو مگر علی علیہ السلام کا تذکرہ ہمیشہ خیر سے کیا۔

[حلیۃ الاولیاء از حافظ ابو نُعَیم اصفہانی، ج ۱،ص۶۴]

  • امام علی علیہ السلام کا دشمن ملعون ہے: ابو ہریرہ کا بیان ہے کہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس تھا کہ علی علیہ السلام تشریف لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے کہا: ’’اے ابو ہریرہ! کیا تم جانتے ہو یہ کون ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! یہ علی بن ابی طالب علیہما السلام ہیں!‘ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’یہ خزانوں کا سمندر ہے، چڑھتا ہوا سورج ہے، یہ نہر فرات سے زیادہ سخی ہے اور اس کا دل اس پوری دنیا سے وسیع ہے۔ پس جو بھی اس سے بغض رکھے گا اس پر اللہ کی لعنت ہے۔

[کنز العمال از متقی ہندی، ص۶۲]

  • امام علی علیہ السلام کا پیروکار ہدایت پائیگا: محمد بن عمر (فخر الدین رازی) کا بیان ہےکہ جو بھی اپنے دینی امور میں علی علیہ السلام کی پیروی کریگا وہ ضرور ہدایت یافتہ ہو گا کیوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ دعا کی تھی کہ اَللّٰہُمَّ اَدِرِ الْحَقَّ مَعَہٗ حَیْثُمَا دَارَ(خدایا! حق کو علی علیہ السلام کے ساتھ وہاں موڑنا جہاں وہ مڑیں)۔

[تفسیر مفاتیح الغیب معروف بہ تفسیر كبیر، ج ۱،ص۱۱۱]

ان تمام فضائل کے باوجود ہر زمانہ میں لوگوں نے امام علی علیہ السلام کی محبت و ولایت کو فراموش کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ نصیحت انسان کو آج بھی دعوت فکر دے رہی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک میرے بعد فتنہ برپا ہوگا۔ جب ایسا ہو تو تم سب علی بن ابی طالب علیہما السلام کا دامن تھام لینا۔ کیونکہ سب سے پہلے مجھ پر ایمان لانےوالے وہی ہیں اور روز قیامت مجھ سے مصافحہ کرنے والوں میں بھی سب سےپہلے وہی ہوں گے۔ وہ صِدِّیق اکبر ہیں اور وہی اِس امّت کے فاروق ہیں۔ وہ مومنین کے سید و سردار ہیں جبکہ منافقین کا راہنما مال و دولت ہے۔‘‘

[الاصابۃاز حافظ ابن حجر عسقلانی، ج ۷، قسم ۱، ص ۱۶۷]

دنیا میں کامیابی اور آخرت کی ابدی سعادت کو حاصل کرنے کا واحد راستہ امیر المومنین امام علی بن ابی طالب علیہما السلام کی محبت و ولایت ہے۔ خداوندعالم کی بارگاہ میں ہم دعاگو ہیں کہ وہ وارث امام علی علیہ السلام حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور آخری سانس تک ہمیں محبت و ولایت محمد و آل محمدعلیہم السلام کے راستہ پر قائم رکھے۔آمین یا رب العالمین!

Leave a Reply